دنیا

نیوزی لینڈ میں ووٹر کی عمر 18 سے کم کر کے 16 سال مقرر کرنے کی تجویز

Published

on

نیوزی لینڈ کے انتخابی نظام کے  ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ انتخابی نظام میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے، ان تبدیلیوں میں ووٹر کی عمر کم کرکے سولہ سال کرنے سمیت کئی اقدامات شامل ہیں، جن کا مقصد انتخابی نظام تک رسائی کو بڑھانا ہے۔

یہ نیا جائزہ نیوزی لینڈ حکومت کی طرف سے 2021 میں شروع کرائے گئے جائزوں کا ایک حصہ ہے۔ نئے جائزے میں تجویز دی گئی ہے کہ انتخابی مہم کے فنانسنگ نظام کو تبدیل کیا جائے، پارلیمنٹ کی مدت بڑھائی جائے۔

نیوزی لینڈ کی سپریم کورٹ نے 2022 میں ووٹر کی عمر 18 سے کم کر کے 16 سال کرنے کا کہا تھا لیکن موجودہ حکومت نے ابھی تک اس حوالے سے نیاش قانون منظور نہیں کرایا۔

اس جائزہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ جیلوں میں بند تمام قیدیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے اور پارلیمنٹ کی مدت تین سال سے بڑھانے کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے۔

نیوزی لینڈ میں جرمنی کی طرز کا مکس ممبرز پروپوشنل سسٹم رائج ہے، جس کے نتیجے میں اتحادی حکومتیں وجود میں آتی ہیں، اس نظام کا مقصد اقلیتوں کو نمائندگی دینا ہے۔

کسی بھی جماعت کو پارلیمنٹ میں نمائندگی کے لیے کم از کم مجموعی پانچ فیصد ووٹ لینا ہوتے ہیں یا پھر انتخابی حلقے سے جیت کر آنا ہوتا ہے، اب نئی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم ووٹ کی حد 5 فیصد سے کم کرکے 3.5 فیصد کردی جائے۔

حتمی جائزہ رپورٹ نومبر سے پہلے متوقع نہیں اور اس سے پہلے 14 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہونا ہیں، دائین بازو کے ایک رہنما ڈیوڈ سیمور نے کہا ہے کہ تجاویز بائیں بازو کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہیں اور وہ ان کی حمایت نہیں کرتے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین

Exit mobile version