Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

دنیا

امریکا لبنان میں ایک ارب ڈالر لاگت سے دنیا کا دوسرا بڑا سفارتخانہ کیوں بنا رہا ہے؟

Published

on

لبنان میں زیر تعمیر امریکی سفارتخانے تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں، جس کے بعد سفارتخانے کے سائز پر کئی سوالات اور سازشی نظریات پیدا ہو رہے ہیں جبکہ معاشی تباہی سے دوچار اس ملک میں ایک ارب ڈالر سے زائد لاگت کے اس سفارتخانے کی تعمیر پر طنز بھی کیا جا رہا ہے۔

زیر تعمیر سفارتخانے کی تصاویر امریکی سفارتخانے کے ہینڈل سے شیئر کی گئیں اور لکھا گیا کہ ہمارے نئے کمپاؤنڈ میں چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس ٹویٹ پر لاکھوں تبصرے اور آراء آچکی ہیں ۔

بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکا کو بغداد میں دنیا کا سب سے بڑا سفارتخانہ بنانے کے بعد اس خطے میں دوسرا بڑا سفارتخانہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ بحیرہ روم کے ملک میں صرف ساٹھ لاکھ آبادی ہے اور بڑے مالی بحران سے دوچار ہے۔

ایک ٹویٹر صارف نے لکھا کہ کہ یہ پینٹاگون سے بھی بڑا ہے، اس کمپاؤنڈ کے لیے ویزا جاری کرنے کے علاوہ کیا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ایک اور ٹویٹر صارف نے استفسار کیا، سیکڑوں جاسوسوں اور درندازوں کی رہائش کے لیے جگہ؟ ہتھیاروں کی فیکٹری بھی؟۔ایک اور نے لکھا اس فوجی اڈے جیسی عمارت میں خفیہ بائیولیبز بھی موجود ہیں؟

امریکا کا سفارتخانہ تینتالیس ایکڑ پر محیط ہے اور اس پر لاگت کا تخمینہ ایک ارب ڈالر ہے، معاشی بدحالی کے شکار ملک میں اس خطیر رقم سے سفارتخانے کی تعمیر پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس عمارت پر سرمایہ کاری امریکا کے مشرق وسطیٰ کے لیے اعلیٰ ترین سفارتی نمائندے کے اس انتباہ کے بعد شروع ہوئی کہ لبان کی ریاست کو بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔

اکتوبر میں سابق صدر میشل عون کی میعاد بغیر کسی متبادل کے ختم ہونے کے بعد سے لبنان میں کوئی باضابطہ حکومت نہیں۔ ملک کے سیاست دانوں نے اس بحران سے نمٹنے میں بہت کم دلچسپی دکھائی،لبنان کے معاشی بحران کے حوالے سے عالمی بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ 150 برسوں میں دنیا کے بدترین معاشی بحرانوں میں سے ایک ہے۔

امریکہ لبنان کو انسانی اور فوجی امداد کا سب سے بڑا عطیہ کرنے والا ملک ہے، لیکن اس ملک میں اس کے اثرورسوخ کوایران اوراس کی حمایت یافتہ جماعت حزب اللہ نے چیلنج کیا ہے۔

لبنان میں واشنگٹن کے سفارت خانوں کو اس سے قبل مسلح گروہوں نے نشانہ بنایا تھا۔ مغربی بیروت میں امریکی سفارتخانے کو 1983 میں ایک بم دھماکے میں تباہ کر دیا گیا تھا جس میں سی آئی اے کے آٹھ ایجنٹ مارے گئے تھے۔ اس کے بعد یہ بنیادی طور پر مشرقی بیروت میں چلا گیا جو مسیحی آبادی کی اکثریت والا علاقہ ہے، لیکن اس عمارت کو 1984 میں ایک ٹرک بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس میں 241 امریکی میرینز اور 58 فرانسیسی فوجی ہلاک ہوئے۔

حسن تنولی نوجوان صحافی ہیں۔ انہوں نے ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ سے کمیونیکیشن میڈیا سٹیڈیز میں بی ایس کیا۔قومی و بین الاقوامی میڈیا کو دلچسپی سے دیکھتے ہیں، کھیل اور انٹرٹینمنٹ سے لگاؤ رکھتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین